حضرت عمر فاروق رضہ کی سادگی

حضرت عمر فاروق رضہ کی سادگی



آپکو حضرت عمر فاروق رضہ کی سادگی پر ایک واقعہ بتاتی چلوں، 


 حضرت عمر فاروق رضہ بڑے دلیر اور جری آدمی مسجد میں جمعہ  پڑھانے کے لیے داخل ہوئے تو جناب ابو ایوب انصاری مسجد کے دروازے پہ کھڑے کہنے لگے کہ "عمر ..جلدی آیا کرو ہم کوئی تیرے نوکر نہیں ہیں جو تیرا انتظار کریں وقت پہ آیا کرو بڑی دیر سے کھڑے ہیں ، کیوں دیر سے آئے ہو ، بڑے جلالی تھے سیدنا عمر لیکن وہ جلالی اس وقت تھے جب کوئی ظلم کرتا ، لیکن کسی کی ذات کے لیے جلالی نہیں تھے ، 
 ابو ایوب نے کہا کہ وقت پہ آیا کر کوئی ملازم نہیں تیرے ۔ سیدنا عمر ممبر پر چڑھے اور فرمانے لگے کہ اللہ ابو ایوب انصاری کا بھلہ کرے جب تک اس طرح کے لوگ موجود ہیں کوئی بادشاہ بگڑے گا نہیں ، اللہ اسکا بھلا کرے اس نے میری راہنمائی کی ،اور پھر عمر رو پڑے اور فرمانے لگے مسلمانو مجھے معاف کرنا میری غلطی نہیں ھے میرے پاس کرتا ایک ہی ھے ،اور عبداللہ کی ماں نے اسے دھو کر سوکھنے کے لیے ڈال دیا تھا غریب ہوں کرتا اور کوئی نہیں ھے ، تو وہ زرا خشک ہونے میں دیر ہو گئی بھلے تم آ کے دیکھ لو ابھی بھی گیلا ھے مجھے معاف کرنا میری غلطی نہیں ھے
(اللہ اکبر)
تین براعظموں پر حکومت کرنے والے بادشاہ سیدنا عمر فاروق اور ایک ہی کرتا اس بادشاہ کے پاس ۔اے عمر میرے نبی کے شیر تجھ پہ لاکھوں جانیں قربان یہ لکھتے آنکھیں بھیگ گئیں ۔
اللہ ہم سب کو بھی سیدنا عمر جیسا دل اور سوچ نصیب فرمائے آمین
x
x

Comments